کم گوئی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - کم بولنا، کم سخنی، خاموش رہنا۔ "اپنی طبعی کم گوئی اور سنجیدگی کے زور پر وہ افسروں سے گزارہ کر رہا تھا۔" ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٢٥١ )
اشتقاق
فارسی صفت 'کم' کے بعد فارسی مصدر 'گفتن' کے صیغہ فعل امر 'گو' کے ساتھ 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٩٢ء کو "دیوانِ محب" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کم بولنا، کم سخنی، خاموش رہنا۔ "اپنی طبعی کم گوئی اور سنجیدگی کے زور پر وہ افسروں سے گزارہ کر رہا تھا۔" ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٢٥١ )
جنس: مؤنث